بلاگ

ریاست ہے تو سیاست ہے ڈاکٹر رحیق احمد عباسی

"میاں صاحب اب نظریاتی ہو گیا ہے، وہ ڈیل نہیں کرے گا"

نواز شریف سے بلاول بھٹو نے کوٹ لکھپت جیل میں ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اپنی مخصوص انداز میں کہا تھا کہ “میاں صاحب اب نظریاتی ہو گیا ہے، وہ ڈیل نہیں کرے گا”۔ بلاول کی زبان سے یہ سن کر بہت سے لوگ پر امید ہوگئے کیوں نہ ہوتے دو ایسے شہیدوں کا وارث بات کر رہا تھا جنہوں نے جان کی قربانی دینا آسان سمجھا لیکن نظریات پر سمجھوتہ کرنے سے انکار کردیا۔ نظریاتی ہونے کی پہلی دلیل ہی یہ ہوتی ہے کہ نظریہ کی اہمیت ہر چیز سے بالا اور اس کی قیمت اپنی جان سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ اگر کوئی نظریاتی انسان سے بڑھ کر نظریاتی قائد بننا چاہے تو اس کو ثابت کرنا ہوتا ہے کہ جو کوئی اس کے نظریہ کو مان کر اس کے ساتھ جان کی بازی لگانے کے لئے تیار ہو جائے گا ہر وہ شخص اس کو اولاد کی طرح عزیز ہوگا اور جس نظریہ کے لئے اس کے کارکن جان کی بازی لگاتے ہیں وقت آنے پر نظریہ کے لئے اپنی سگی اولاد پر مشکل وقت آئے تو اولاد کو کارکنوں پر ترجیح نہیں دے گا۔ بلاول اکیلے ہی میاں صاحب کے حوالے سے مغالطے کا شکار نہ ہوئے اور بھی بہت سارے سول سپریمیسی کے آئیڈیل ازم کے پجارویوں کو بھی نواز شریف میں نیلسن مینڈیلا نظر آنا شروع ہوگیا۔پھر پلیٹلٹس کے نام پر جو کچھ ہوا اور نظریاتی لیڈر نے جس طرح مبینہ اور خفیہ انڈرسٹینڈنگ کے ذریعے لندن جا کر چپ کا روزہ رکھ لیا وہ سب کے سامنے ہے۔ کارکن کو اولاد پر ترجیح دینا تو دور کی بعد یہاں سعد رفیق جیسے صف اول کے لیڈر جیل میں سڑتے رہے سابق وزیراعظم شاہد خاقان نیب کی قید میں رہے لیکن نظریاتی لیڈر اپنے مفرور بیٹوں اور سمدھی کے ساتھ برطانیہ میں کرپشن کی دولت سے بنائے ہوئے ملینز ڈالر کے فلیٹ میں خاموشی سے بیٹی کی آمد کا انتظار کرتا رہا۔ خود ساختہ ملک بدر اور قانونی مفرور خاموش نظریاتی نواز شریف اور ان کی پاکستان میں ضمانت پر رہا نظریاتی بیٹی مریم نواز کی چپ نے ان سب نظریاتی دانشوروں کے ہاں صف ماتم بچھا دی جو کم و بیش ایک سال جاری رہی۔ پھر کیا ہوا کہ خاموشی ٹوٹی اس پر ہر کسی کا اپنا تجزیہ ہے لیکن ہر تجزیہ میں ایک بات مشترک ہے کہ خفیہ انڈرسٹینڈنگ میں مریم نواز کو بیرون ملک کی اجازت دلوانا شامل تھا جس پر عمران خان اڑ گئے اور بات آگے نہ بڑھ سکی۔ عمران خان کی حکومت نے اقتدار میں آنے سے پہلے جو دعوے اور وعدے کئے تھے ایک نامکمل مینڈیٹ اور اتحادیوں کی بے ساکھیوں پر قائم کمزور حکومت کیلئے ان پر عمل در آمد کروانا تو ممکن ہی نہیں تھا۔ اوپر سے مہنگائی، عالمی کورونا بحران کے معاشی اثرات اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری نے عوام میں بے چینی کو بڑھایا تو نواز شریف کا نظریہ ایک بار پھر جاگ پڑا۔ مریم نواز کی چپ کا روزہ بھی ٹوٹ گیا اور شاید خفیہ انڈرسٹینڈنگ کروانے میں کردار ادا کرنے والوں میں سے بھی کسی نے کوئی ایسا اشارہ دیا کہ ووٹ کو عزت دینے کا نعرہ زندہ ہوگیا۔ عمران خان کی حکومت کے خاتمے کہ پیشن گوئیاں شروع ہو گئی اور پی ڈی ایم کی تحریک کا آغاز ہوگیا۔ اسلام آباد کی سینٹ کی سیٹ کے انتخابات میں جس طرح ووٹ کو عزت دو کا نعرہ نوٹ کو عزت دو میں بدلا اور چیئرمین کے الیکشن میں جس طرح اس نعرے کی تدفین ہوئی اس نے نظریاتی نواز شریف کو ایک مرتبہ پھر بڑی طرح مایوس کر دیا۔ 40 سال تک پنجاب میں تقریبا مسلسل اقتدار میں رہنے والے اور تین دفعہ وفاق میں حکومت بنانے والے شریف خاندان کی سیاسی وارث مریم نواز کو ایک چھوٹے سے آپریشن کے لئے باہر جانا تھا جس کی اجازت ملنے کی رہی سہی امید بھی ختم ہوگئی تو پھر ایک ایسی دھمکی جس کی گواہ صرف مریم نواز ہی ہے کی بنا پر ریاستی اداروں پر گولہ باری کا آغاز کر دیا گیا اور رہی سہی کسر جاوید لطیف کی زبان سے پاکستان توڑنے کی دھمکی سے پوری کر دی گئی۔ ایسا کرتے وقت شاید ان کو یہ یاد نہیں رہا کہ پاکستان ہے تو ان کی سیاست ہے پاکستان ہے تو ان کا کاروبار ہے پاکستان ہے تو اس میں جمہوریت کا نظام ہے۔ پاکستان کے عوام سادہ سہی ۔۔ آپ کے خیال میں بے وقوف سہی۔ لیکن بہرحال پاکستان سے ان کی محنت اٹل اور وفاداری ہر شے سے بالا ہے۔ گزشتہ 4 دہائیوں میں پاکستان میں ایک لسانی نظریہ کے تحت قائم سب سے کامیاب اور ناقابل شکست سمجھے جانے والی جماعت ایم کیو ایم سمجھی جاتی تھی پھر اس کے کارکنوں میں بتدریج نظریہ پیچھے رہتا گیا اور قائد اہم ہوتا گیا۔ یہاں تک کہ قائد کے ساتھ محبت کو ثابت کرنے لے لئے شہر کراچی کے در و دیوار کو “منزل نہیں رہنما چاھیے” سے مزین کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ آج نہ اس جماعت کا نظریہ باقی نہیں رہا اور نہ یہ کوئی راز ہے کہ بانی قائد کس کسمپرسی اور ذہنی دباؤ والی زندگی گزار رہا ہے۔ اگر نواز شریف حقیقی معنوں میں نظریاتی ہوتے تو مریم نواز کو کوئی دھمکی ملی بھی تھی تو وہ یہ کہتے میں اپنے نظریہ پر ایک نہیں دس مریم قربان کرنے کے لئے تیار ہوں۔ جی نظریہ قربانی مانگتا ہے۔ صبر اور حوصلہ مانگتا ہے۔ جمہوریت ریاست کے لئے ہوتی، سیاست ریاست کے اندر رہ کر ہی کی جاسکتی ہے۔ بھٹو کی پھانسی کے بعد بدترین مارشل لاء کے دوران الذوالفقار بنا کر ریاست سے ٹکرائو کا راستہ اختیار کرنے والے بھٹو کے دونوں بیٹوں کے بیانیہ کو قوم نے رد کر دیا جبکہ بے نظیر بھٹو کی سیاسی و جمہوری جدوجہد کی باعث آج بھی قوم کی اکثریت ان کو شہید جمہوریت کے لقب سے جانتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے جس جس نے ریاست کے مفاد پر اپنے ذاتی مفاد کو قربان کیا اسی کا نام سنہرے حروف سے لکھا گیا اور جس نے اپنے ذاتی خاندانی اور اولاد کے مفاد کے لئے ریاست کے وجود کو پارہ پارہ کرنے کی کوشش کی وہ یا تو تاریخ کے اندھیروں میں گم ہو گیا یا اس کا نام میر صادق اور میر جعفر کی طرح ایک گالی بن گیا۔ ریاست ہے تو ہم ہیں۔ ریاست ہے تو آپ کی سیاست ہے۔ اگر آپ نے سیاست بچانے کے لئے ریاست کے وجود کو خطرے میں ڈالنے کی کوشش کی تو ریاست کو تو انشا ء اللہ کچھ نہیں ہوگا آپ کی سیاست بہرحال ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Open chat
Need help ?