پاکستان

عاصم باجوہ سی پیک اتھارٹی سے بھی استعفیٰ دیں،مریم نواز

مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ معاون خصوصی کے عہدے سے استعفیٰ کوئی معنی نہیں رکھتا۔ عاصم باجوہ سی پیک اتھارٹی کی چیئرمین شپ سے بھی استعفیٰ دیں۔

وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے اطلاعات اور سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین عاصم سلیم باجوہ نے پیر کو ٹوئٹ کرکے بتایا کہ وزیراعظم نے معاون خصوصی کے عہدے سے ان کا استعفیٰ منظور کرلیا ہے۔

اس پر مریم نواز نے ردعمل دیتے ہوئے عاصم باجوہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ معاون خصوصی کے عہدے سے استعفیٰ دینا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ آپ کو نہ صرف سی پیک اتھارٹی کی چیئرمین شپ سے اپنا استعفیٰ دینا ہوگا بلکہ تین بار کے منتخب وزیر اعظم اور ان کی بیٹی کی طرح خود کو قانون کے حوالے کرنا ہوگا۔

مریم نواز نے کہا کہ نواز شریف کے خلاف تمام مقدمات سیاسی تھے مگر اس کے باوجود انہوں نے عدالتوں میں ان کا سامنا کیا۔

واضح رہے کہ عاصم سلیم باجوہ نے صحافی احمد نورانی کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے کے بعد اپنا استعفیٰ وزیراعظم کو پیش کیا تھا مگر وزیراعظم نے اس وقت قبول نہیں کیا۔ بعد ازاں سماء ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا تھا کہ وہ ’عاصم باجوہ کی صفائی سے مطمئن‘ ہوگئے تھے۔

احمد نورانی نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ عاصم باجوہ، ان کے بیٹے اور بیگم کے نام پر پاکستان سمیت دیگر کئی ممالک میں کاروبار اور جائیدادیں ہیں جو انہوں نے وزیراعظم کے معاون خصوصی بننے کے بعد اپنے اثاثہ جات کے گوشواروں میں ظاہر نہیں کیے۔

احمد نورانی کی اسٹوری فیکٹ فوکس ویب سائٹ پر شائع ہوئی جس کے مطابق عاصم باجوہ کے بھائی ندیم باجوہ نے امریکا کی معروف فوڈ چین پاپا جونز کا پہلا ریسٹورنٹ 2002 میں قائم کیا۔ اسی سال جنرل (ر) عاصم باجوہ کی جنرل پرویز مشرف کے اسٹاف آفیسر کے طور پر تعیناتی ہوئی تھی۔

ندیم باجوہ نے اپنے کاروباری سفر کا آغاز پاپا جونز پیزا ریسٹورنٹ میں بطور ڈیلیوری ڈرائیور کیا تھا، یہ کاروبار عاصم سلیم باجوہ کی ترقی کے ساتھ ساتھ پھیلتا چلا گیا۔ اب ان کے بھائیوں اور عاصم باجوہ کی اہلیہ اور بچوں کی چار ممالک میں 99 کمپنیاں اور 130 فعال فرینچائز ریسٹورنٹس ہیں جن کی موجودہ مالی حثیت تقریبا چالیس ملین ڈالر (6 ارب 70کروڑ پاکستانی روپے) ہے۔

رپورٹ کے مطابق جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کی اہلیہ اور ان کے بیٹوں نے پاکستان اور امریکا میں ان کاروباروں میں شمولیت اختیار کی۔ ان کی اہلیہ امریکا، کینیڈا اور متحدہ عرب امارات میں چلنے والے کاروباروں میں برابر کی شراکت دار ہیں۔

لیکن عاصم سلیم باجوہ نے وزیراعظم کے معاون خصوصی بننے کے بعد جمع کروائی گئی اپنے اثاثہ جات کی فہرست میں اپنی بیوی کے پاکستان سے باہر بزنس کیپیٹل کا ذکر نہیں کیا۔ بلکہ متعلقہ کالم میں باقائدہ ‘کوئی نہیں ہے لکھا۔’

عاصم سلیم باجوہ نے پیر کو اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کا تفصیلی جواب جاری کرتے ہوئے کہا کہ ‘میرے خلاف 27 اگست کو ویب سائٹ پر آنے والی خبر مکمل جھوٹ ہے۔ الحمد للہ میری اور خاندان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی ایک اور کوشش ناکام ہوگئی، ہمیشہ وقار اور عزت کے ساتھ پاکستان کی خدمت کرتا رہوں گا۔’

اپنے ٹویٹر اکاؤنٹس سے جاری پریس ریلیز میں انہوں نے مزید کہا کہ اثاثوں کی تفصیلات میں معلومات چھپانے کا الزام غلط ہے، 22 جون 2020ء کو اہلیہ اپنی تمام سرمایہ کاری سے دستبردار ہوچکی، اہلیہ میرے بھائیوں کے بیرون ملک کاروبار میں شراکت دار نہیں تھیں، انہوں نے میری 18 سالہ جمع پونجی سے سرمایہ کاری کی، اہلیہ نے 2002ء سے یکم جون 2020ء تک صرف 19 ہزار 492 ڈالرز کی امریکا میں موجود بھائیوں کی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی۔

سابق ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک قوانین کی ایک بار بھی خلاف ورزی نہیں کی گئی۔ عاصم سلیم باجوہ نے اپنے بھائیوں کی پیزا چین میں سرمایہ کاری کی بھی وضاحت کردی، انہوں نے بتایا کہ باجکو گلوبل مینجمنٹ صرف ایک مینجمنٹ کمپنی ہے، یہ باجکو سے متعلقہ کاروبار کی پیرنٹ کمپنی نہیں، باجکو گلوبل مینجمنٹ کی پیزا چین میں کوئی ملکیت نہیں، امریکا، عرب امارات یا ریئل اسٹیٹ کاروبار میں اس کی کوئی ملکیت نہیں۔

چیئرمین سی پیک اتھارٹی نے پریس ریلیز میں یہ بھی کہا کہ باجکو کی ملکیت 99 کمپنیز کا دعویٰ بھی جھوٹا ہے، جھوٹی رپورٹ میں کئی کمپنیز کا نام ایک سے زائد مرتبہ درج کیا گیا، امریکا میں مجموعی طور پر 27 اور عرب امارات میں صرف 2 کمپنیز ایکٹو ہیں۔

عاصم سلیم باجوہ کا کہنا ہے کہ 2002ء کے بعد 18 سال میں میرے بھائیوں نے 7 کروڑ ڈالرز کی فرنچائزز خریدیں، ان میں سے 6 کروڑ ڈالرز کے اثاثے بینک قرضوں کے ذریعے خریدے گئے، 18 سال میں اہلیہ یا بھائیوں کی بچت میں سے مجموعی سرمایہ کاری 73 ہزار 950 ڈالرز ہے، جس میں اہلیہ کی سرمایہ کاری صرف 19 ہزار 492 ڈالرز ہے، میرے بھائیوں کی جانب سے سرمایہ کاری 54 ہزار 458 ڈالرز ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Open chat
Need help ?