پاکستانصفحۂ اول

لال مسجد کیس؛ جیسے پہلے امن قائم ہوا اب پاکستان اس کا متحمل نہیں ہوسکتا، اسلام آباد ہائیکورٹ

ایک ملحد نے ایک پوسٹ کی ہے جس پر ہمارے کچھ ردِ الحاد کے ساتھی عجیب و غریب طریقے سے حضرت مریم علیہ السلام میں Y کروموزومز کی موجودگی کی وضاحتیں کرنے میں مصروف ہیں ۔ یہ وہ معجزات ہیں جن کا سائنس انکار کر سکتی ہے نہ کوئی وضاحت ۔ان کا پہلا سوال ہے ۔1۔ حضرت آدم کس سائنسی اصول یا قانون کے تحت مٹی کے پتلے پر پھونک مارنے سے زندہ ہوگئے؟جواب ۔ سادہ سا جواب ہے ۔ کسی سائنسی اصول کے تحت نہیں ۔ ﷲ تعالیٰ کو کسی مردے میں جان ڈالنے کے لئے سائنس کی ضرورت ہی نہیں ہے ۔ اس کے سارے کام کن فیکون سے ہو جاتے ہیں ۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اعتراض کر کون رہا ہے ؟ سائنس اور نظریۂ ارتقاء کے حامی ملحد ؟ان کے پاس منہ نہیں یہ سوال کرنے جوگا ۔ نظریۂ ارتقاء کو جو لوگ اچھے سے سمجھتے ہیں وہ یہ جانتے ہیں کہ سائنس آج تک پہلی حیات کی وضاحت نہیں کر پائی ۔ ایک یک خلوی جرثومے کے اندر کس سائنس دان نے پھونک ماری تھی جو وہ مردہ سے زندہ ہو گیا ؟ یہ سوال میں جب بھی کسی ارتقائی ملحد سے پوچھتا ہوں وہ جواب میں کہتا ہے کہ نظریۂ ارتقاء کا یک خلوی جرثومے سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے ۔ نظریۂ ارتقاء اس سے ایک قدم آگے سے شروع ہوتا ہے ۔ کیوں ؟ کیوں کہ سائنس آپ کو یہ تو بتا سکتی ہے کہ وہ جرثومہ پودے میں کیسے بدلا مگر یہ بتانے سے قاصر ہے کہ بے جان چیزوں سے زندہ جرثومہ کیسے وجود میں آگیا ۔ لہٰذا وہ اس سوال سے ہی جان چھڑا لیتے ہیں ۔ اب اس سوال کا سادہ سا جواب یہ بنتا ہے کہ جس سائنسی اصول پر تین بے جان کیمیکلز کے ملاپ سے یک خلوی جرثومہ زندہ ہو گیا اسی سائنسی اصول پر حضرت آدم علیہ السلام بھی زندہ ہو گئے ۔ آگے چلیئے ۔ اگلا سوال ہے ۔ 2۔ جوان جمان بی بی حوا کس سائنسی اصول یا قانون کے تحت ایک مرد یعنی حضرت آدم کے پسلی سے پیدا ہوکر دنیا میں نمودار ہوئی تھی؟ جواب ۔ پچھلے جواب کی روشنی میں اس کا جواب بھی وہی ہو گا ۔ اﷲ نے ہر جاندار جوڑوں میں بنایا ہے ۔ لہٰذا جس سائنسی اصول پر آدم علیہ السلام پیدا ہوئے اسی سائنسی اصول پر حوا علیہ السلام بھی پیدا ہوئیں ۔ اب چلتے ہیں اگلے سوال پر جس پر سب سے زیادہ بحث ہے ۔ 3۔ سبکو پتہ ہے کہ مردوں میں xy کروموسومز ہوتے ہیں اور خواتین میں xx. سوال یہ ہے کہ کنواری بی بی مریم کو جو حمل ٹھہرا اس سے بعد میں ایک بچہ پیدا ہوا یعنی ایک ایسا انسان جو کہ xy کروموسومز کے ملاپ سے وجود میں آیا۔ مجھے وہ سائنسی اصول یا قانون بتائیں جس کے تحت کسی انسانی خاتون میں بغیر کسی y کروموسوم کے کوئی male بے بی پیدا ہوسکتا ہے؟ جواب ۔ ارتقاء کی تاریخ اگر ہم پڑھیں تو پتہ چلتا ہے کہ ارتقاء کا آغاذ یک خلوی جرثومے سے ہوا ۔یک خلوی جرثومے کی افزائش نسل کا طریقہ تھا کہ وہ اپنے آپ کو تقسیم کرتا تھا ۔ اسے قطعاً قطعاً قطعاً جنسی اختلاط کا علم نہیں تھا ۔ نہ اس نے کبھی اسے استعمال کیا ۔پھر وہ یک خلوی جرثومہ ترقی کر کے پودہ بن گیا ۔ اب اس نے افزائش نسل کا ایک نیا طریقہ سیکھا ۔ وہ تھا جنسی تولید ۔ کہاں سے سیکھا ؟ سانوں کی پتہ ؟ اس پودے کو بھی قطعاً قطعاً قطعاً جنسی اختلاط کا علم نہیں تھا ۔ نہ اس نے کبھی یہ طریقہ استعمال کیا ۔ بلکہ یہ اپنے آباء اجداد کا تقسیم والا طریقہ بھی بھول گیا ۔پھر یہ پودا ترقی کر کے آبی جاندار میں تبدیل ہوا ۔ یہاں سے جنسی اختلاط سے پہلی بار روشناس ہوا ۔ یعنی نر اور مادہ میں جنسی اختلاط ۔ یاد رہے پہلے آبی جاندار سے پہلے اس کرہ عرض پر کبھی کسی نے جنسی اختلاط نہیں کیا تھا ۔ اب میرا سوال بڑا سادہ سا ہے ۔ جس پہلے جاندار نے پہلی بار جنسی اختلاط کا طریقہ استعمال کیا اس کی اپنی پیدائش میں Y کروموزومز استعمال ہوئے یا نہیں ؟ جواب بھی بڑا سادہ ہے ۔ جی نہیں ۔ اس کے ماں باپ پودے تھے جو جنسی اختلاط نہیں بلکہ جنسی تولید کا طریقہ استعمال کیا کرتے تھے ۔ بغیر Y کروموزومز کے استعمال کے بغیر ایک جاندار وجود میں آچکا تھا ۔ اور یہ میں نہیں کہہ رہا ۔ یہ ارتقائی نظریہ کہتا ہے ۔ یعنی یہ سائنس ہے کوئی معجزہ نہیں ۔ تو اگر سائنس کے مطابق ارتقائی نظریئے میں بغیر Y کروموزومز کے ایک نر جاندار وجود میں آسکتا ہے تو حضرت عیسیٰ کی پیدائش پر اعتراض کیسا ؟ تحریر محمد سلیم

اسلام آباد ہائیکورٹ نے لال مسجد کیس میں ریمارکس دیے ہیں کہ جیسے پہلے امن قائم ہوا اب پاکستان اس کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے لال مسجد کی بندش کیخلاف شہداء فاؤنڈیشن کی درخواست پر سماعت کی۔

ہائیکورٹ نے معاملہ حل کرنے کے لیے وقت دینے کی ڈی سی اسلام آباد کی استدعا منظور کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کو دسمبر تک معاملہ قانون کے مطابق حل کرنے کا حکم دے دیا۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ کیا لال مسجد بند ہے؟۔ ڈی سی اسلام آباد حمزہ شفقات نے بتایا کہ لال مسجد میں 30 سے 40 طالبات موجود ہیں، انہوں نے غیر قانونی طور پر مسجد میں کمرے بنا کر قبضہ کیا ہوا ہے ، یہ سرکاری مسجد ہے، جہاں جانے والا صرف ایک راستہ بند ہے، مسئلہ حل کررہے ہیں وقت دیا جائے۔

شہداء فاؤنڈیشن کے صدر طارق اسد ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں خواتین کو بٹائیں تاکہ مسجد کھل جائے۔ عدالت نے کہا کہ وہ آپ کے لوگ ہیں آپ بچیوں کو وہاں سے کہیں اور بھیج دیں۔

طارق اسد ایڈووکیٹ نے جواب دیا کہ لال مسجد شہداء فاؤنڈیشن کی ملکیت نہیں، شہداء فاؤنڈیشن شہداء کے ورثا کی تنظیم ہے، راستہ بند ہونے سے نمازیوں کو بھی پریشانی کا سامنا ہے، انتظامیہ نے پہلے بھی امن قائم کیا تھا اب بھی کرسکتی ہے۔

عدالت نے کہا کہ انتظامیہ کو اس مسئلے کو دیکھنا ہے کہ کیسے حل کیا جاسکتا ہے، جس طرح پہلے امن قائم ہوا اب پاکستان اس کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ عدالت نے قانون کے مطابق معاملہ حل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت یکم دسمبر تک ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ شہداء فاؤنڈیشن نے مسجد کی بندش کیخلاف عدالت سے رجوع کررکھا ہے۔

شیئرٹویٹ

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Open chat
Need help ?