انٹر نیشنل

مرغوں کی لڑائی، پولیس افسر مرغے کے حملے میں ہلاک

فلپائن کے شمالی صوبہ ثمر میں مرغوں کی غیر قانونی لڑائی پر پولیس چھاپے کے دوران لڑاکا مرغے کے حملے میں پولیس افسر ہلاک ہوگیا۔

بی بی سی کے مطابق کرسچین بولک نامی پولیس افسر کو چھاپے کے دوران لڑاکا مرغے کے پنجے سے لگے تیز دھار بلیڈ سے زخم آئے تھے، یہ تیز دھار بلیڈ اکثر مرغوں کی لڑائی کے دوران ان کے پنجوں کے ساتھ باندھے جاتے ہیں۔

لڑاکا مرغے کے حملہ آور ہونے کے دوران ان کی دائیں ران پر اس تیز دھار بلیڈ سے کٹ لگ گیا تھا، جس سے ان کی ران کی شریان کٹ گئی، انہیں فوری طور پر اسپتال لے جایا گیا لیکن وہ اسپتال پہنچنے سے قبل ہی ہلاک ہوگئے تھے، ڈاکٹرز نے ان کی موت کی تصدیق کردی۔

واضح رہے کہ فلپائن میں کرونا وائرس کی وباء کے دوران مرغوں کی لڑائی پر پابندی عائد ہے۔ فلپائن کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق کرونا کی وباء سے قبل بھی ملک میں صرف سرکاری چھٹی، ہفتہ وار چھٹی یا کسی تہوار پر لائسنس یافتہ مقامات پر مرغوں کی لڑائی کی اجازت تھی۔

صوبائی پولیس کے سربراہ نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ یہ ایک افسوسناک واقعہ ہے، میرے 25 برس کے پولیس کیریئر میں، میں نے پہلی مرتبہ مرغوں کی لڑائی کے باعث اپنا کوئی جوان کھویا ہے۔

سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق مرغوں کی لڑائی پر چھاپے کے دوران 3 افراد کو گرفتار کیا گیا، تاہم 3 دیگر مشکوک افراد فرار ہوگئے، 7 لڑاکا مرغوں کے ساتھ ساتھ جوئے پر لگائی گئی رقم 11 ڈالر (550 فلپائنی روپے) بھی قبضے میں لے لئے تھے

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Open chat
Need help ?