بلاگ

ٹیرس سے پیرس

@a.k.rao

http://www.znn.tv/ٹیرس-سے-پیرس دین اور دنیا کی بھلائی کے لئے قائم کی گئی جماعتوں کو چھوڑ کر صرف دنیا کی بھلائی کے لئے سیاسی جماعتوں میں گھسنے والے بہترین جماعتوں کے بدترین لوگ ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ انہوں نے بہترین کو چھوڑا کر کمترین کا انتخاب کیا ہوتا ہے یہ کل ہی کسی نے کہا تھا ایسے ہی لوگ وقت آنے پر اصل سے غداری کر جاتے ہیں۔

کچھ دن قبل سینٹ کے الیکشن ہوئے جس میں اپوزیشن کا پلڑا بھاری رہا سوشل میڈیا پے وہ کھپ ڈلی کہ الحفیظ و آلامان یوسف رضا گیلانی کامیاب ہوئے تو اپر کئے گئے زکر کے لوگوں نے علی گیلانی کی ننگی ویڈیو پر بھی جواز تلاش کر کے حلال کر لی۔

آج جب سات آدمیوں نے ووٹ کے خانوں میں مہر لگانے کی بجائے نام پر مہر لگائی تو ان کا کیا مقصد تھا کیا وہ بہترین جماعتوں کے بدترین لوگ تھے یا بدترین جماعت کے منافق لوگ جو بھی تھے انہوں نے جمہوری نظام پے بڑا سوالیہ نشان چھوڑ دیا ہے۔

آج جو بھی ہوا شعور والوں کے لئے المیہ ہے مگر زہنی معزور جن کا زکر کبھی عمران خان نے 45 فیصد جن کی خوراک کی کمی کے باعث گروتھ کے رک جانے کی کبھی بات کی تھی انہوں نے شکست کا ملبہ میری پاک فوج پر ڈالنے کی بھونڈی کوشش کی ان میں پاکستان میں تو ہیں ہی مگر اوور سیز میں بھی آکے زہنی معزوری سے چھٹکارہ نہیں پا سکے کچھ تو “را” کے پے رول پے ہیں ان کا تو بھونکنا بنتا ہے کچھ اچھی جماعتوں سے تعلق کے باوجود فارغ البال و فارغ العقل ہیں ۔

کل کے الیکشن میں ایک ووٹ جماعت اسلامی کا بھی تھا جنہوں نے نہ ڈال کر کس کی خدمت کی ، کس کو فائدہ دیا یہ سوال پھر صحیح یہ بات کلیر ہے جماعت اسلامی کو سینٹ میں ووٹ ڈالنے کا آخری موقع تھا جو انہوں نے ضائع کر دیا اب شائد کبھی بھی جماعت اسلامی کو سینٹ نصیب نہ ہو۔

ایک ووٹ اسحاق ڈالر کا بھی تھا مگر مجھے چنتا ہے ان سات ووٹوں کی وہ کون تھے جنہوں نے یوسف رضا گیلانی کو نہیں دیے مگر ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب میں کھل کے دئیے کیا یہ سات ووٹ انہی کے تو نہیں تھے جنہوں نے یوسف رضا گیلانی کو وزارت عُظمی سے نااہل کروایا تھا- اگر ایسا تصور کر لیا جائے تو آج پھر نون لیگ نے پی پی پی سے وشواسگھاٹ کیا ہے۔

سیاست آپسی میل ملاپ کا نام ہے مگر اب پاکستان میں سیاست ختم ہو چکی ہے “سیاہ ست “ عروج پر ہے ایک دوسرے کو دھوکا کھلے عام انسانی و ملکی اقدار کا جنازہ پیسوں کی بندر بانٹ اس حد تک عروج پر ہے کہ پاکستان اب بنانا ریپبلک لگتا ہے یوسف رضا گیلانی نااہل ہوئے تھے کہ انہوں پارٹی سربراہ کی چوری کے پیسوں کو واپس لانے کے لیے بحیثیت وزیر اعظم انکار کیا تھا وہ پیسے ملک کے تھے اس کی صرف سزا ایک منٹ ٹھری اور وزارت عظمی کی قربانی جس ملک میں گنے کی چوری پر چھے کہنے زمانت نہیں ہوتی وہاں ملینز کھانے والے دندناتے پھرتے ہیں ۔

شعور والوں کے لیے ایک نقطہ ہے کیا یہ سینٹ الیکشن ملکی سورس پر قبضے کی جنگ نہیں لگتا کیا PDM مکس اچار کسی بھی طرح اقتدار میں آنے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار نہیں ؟ کیا سات ووٹ کوئی لائن نہیں کھنچ رہئے یہ سات ووٹ 22 کروڑ کے منتخب 100 افراد میں سے سات تھے۔

ان ساری باتوں میں حکومت پھنسی ہوئی لگتی ہے ادارے غیر یقینی صورتحال کا شکار لگتے ہیں اکثر ادارے خصوصا” عدلیہ اپوزیشن کے ٹھگوں کے منتظر لگتے ہیں مہنگائی اور اشیاء کی شارٹیج نے حکومت کو کمزور دیکھاتی ہے اور جہاں کہیں حکومت پراگرس میں ہے وہاں حکومت اور اس کے سپورٹر دکھانے سے قاصر ہیں سینٹ کی جیت پر مٹھائیاں اور کھابے کے ساتھ یہ بھی دیکھائیں کہ پاک روپیہ 198 سے 185 پر آگیا ہے ۔ چوروں کے ساتھی ایک ایک رویئے کے بڑھنے کی رپورٹنگ کرتے رہیے اور حکومتی ساتھی دس سے زائد رویئے کے فرق کو بھی دیکھانے سے قاصر ہیں حالانکہ یہ پبلک انٹرسٹ کی بات ہے ۔ دین اور دنیا کو چھوڑ کر صرف دنیا میں گم ہونے والے مثبت سوچ ہی نہیں سکتے۔

اچھی جماعتوں کے برے لوگ یا بری جماعتوں کے منافق لوگ عوام کو ہر سٹیج پر مس گائڈ کر رہئے ہیں اللہ ہمیں ایسوں سے محفوظ رکھے۔

Back to top button
Open chat
Need help ?