92

سانحہ مری اور ذمہ واران

از نم قلم خواجہ طارق عسکری

مری میں ۲۲ افراد کی مُوت جہاں انتظامیہ ، پولیس ، محلہ ہائی وے کی نااہلی اور غفلت شامل ہے وہاں مری میں ہوٹل مافیا بھی ذمہ وار ہے ، اگر ہوا تل کے کمرے خالی تھے تو پھر کراے پہ کیوں نہیں چڑھے ، مسافروں کے بیان کے مطابق ہوش ربا حد جر کرایے بڑھا دئے ۰

اس جے علاوہ مری انتظامیہ گاڑی والوں کو بروقت مری فاضلہ بند کرنے کی مجرم ہے اور یہ پہلی بار نہیں ہے عام حالات میں بھی ایسا ہوتا ہے ، لیکن اس بار زبردست برفباری اور بارش نے تباہی مچا دی ، آج ۲۲ افراد کی ہلاکت کے بعد موٹر وے کے آئ جی کہنے لگے کاربن ڈائی آکسیڈکتنی خطرناک ہے اور اور ان اطلاعات کی ایک دن پہلے کرنی کی ضرورت تھی ۰
اب اُن کے سُونے اور نیند سے اُٹھنے کا کیا فائدہ وہ بھی وقت پر مطلع نہ کرنے کے مجرم ہیں ۰

مسافر شکایت کُندہ ہیں کہ کسی ڈی سی ، اے سی اور انتظامیہ کو فون کئے لیکن کسی نے جواب نہیں دیا ، اس کی تحقیقات ہونی چائیے ۰ یہ انتظامیہ کے لئے شرم کا مقام ہے اور اُن کو اس کاتاہی سزا ملنی چائیے ۰

اس سانحہ میں فوج ، ایف سی اور وزیر داخلہ شیخ رشید کا کردار اچھا رہا ۰

اس کے بعد یہ بات بھی ذہن میں رہے
کہ مری جانے والوں کی نہ پوری تیاری تھی اور نہ ہی مناسب لباس اور خوراک ساتھ تھی ۰ مسافروں کو یاد رکھنا چائیے وئ یورپ میں سفر نہیں کر رئے تھے یہ پاکستان ہے جہاں اکثر لوگوں کو مشکل میں لُوٹتے ہیں ۰

ہمیں عام دنوں میں مری آنے جانے کا اتفاق ہوا ہے اور صڑکوُں پہ رش ، پارکنگ والوں کے علاوہ لُوٹ مار انتہائ شرمناک ہے اور لوگوں کی زندگی اور مُوت کا سوال ئو ہو توپھر کیا غدر مچے گا ۰
دُنیا میں ایمرجنسی کی صورت کے لئے سڑک کی ایک لین خالی رکھی جاتی ہے ، اسکا فوری بندوبست ہونا چائیے اور مسافروں کو اپنی زندگی کی حفاظت کے لئے اس لین کا احترام کرنا چاہیے

اپوزیشن کے رہنما، جس میں حافظ حمد اللہ ، بلاول حمزہ مریم صفدر ، مریم اورنگ زیب اور پرویز رشید جھوٹ بُولتے ہیں ان کے ذمہ تو کئی افراد کے قتل شامل ہیں ۰

(عسکرے )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں